April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/giikah.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

ہندوستان میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف کئی ریاستوں میں مظاہرے جاری ہیں، خاص طور پر آسام اور نسلی گروہوں نے اسے اپنے اوپر حملہ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کےسبب انسانی حقوق کی پامالی ممکن ہے۔

United Nations General Secretary Antonio Guterres. Photo: INN

رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ نے منگل کو ہندوستان میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ قانون ہندوستان میں بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت نے ۲۰۱۹ءمیں متعارف کروایا تھا۔ 
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کے ایک ترجمان نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ بنیادی طور پر امتیازی نوعیت کا ہے اور ہندوستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ وہ مزید جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ قوانین انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی تعمیل کرتے ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون مسلمانوں کے علاوہ چھ اقلیتی مذہبی برادریوں کے منتخب پڑوسی ممالک بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان سے آنے والے تارکین وطن کو اس شرط پر شہریت فراہم کرنے کی پیشکش کرتا ہے کہ وہ چھ سال سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں اور ۳۱؍دسمبر ۲۰۱۴ء تک ملک میں داخل ہوئے ہیں۔ 
ان ممالک کے انتخاب اور قانون سازی کے دائرہ کار سے مسلمانوں کو بے دخل کرنے پر شروع ہی سے بڑے پیمانے پر تنقید کی جارہی ہے۔ مزید برآں، دسمبر۲۰۱۹ء میں پارلیمنٹ کی طرف سے ترمیم کی منظوری کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور بعد میں اسے صدارتی منظوری مل گئی۔ 
ہندوستانی مسلمانوں کو خوف ہے کہ قانون، ملک گیر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، انہیں ہراساں کرنے اور الگ تھلگ کرنے کیلئے ہے۔ آسام این آر سی کی عملی ناکامی اور عوام کی طرف سے بے مثال مزاحمت کی وجہ سے بی جے پی حکومت کو اس وقت بیک فٹ پر رہنے پر مجبور کر دیا۔ جبکہ باقی ہندوستان میں ایکٹ کے خلاف مظاہرے قانون کے مبینہ مسلم مخالف تعصب کے گرد گھوم رہے ہیں۔ 
 آسام اور شمال مشرق کے باقی حصوں میں نسلی گروہوں کو خوف ہے کہ قانون کے نفاذ سے انہیں جسمانی اور ثقافتی طور پر خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ ملک میں کئی سول سوسائٹی گروپس اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے بھی اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *