April 17, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/giikah.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

EU foreign policy chief Josep Borrell. Image: X

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف جوزف بورل۔ تصویر: ایکس

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف جوزف بورل نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی مہم نے محصور خطے کو دنیا کے سب سے بڑے ’’کھلے ہوئے قبرستان ‘‘میں تبدیل کیا ہے۔ انہوںنے یورپی یونین کی میٹنگ کے دوران کہا کہ جنگ سے قبل غزہ سب سے بڑی کھلی ہوئی جیل تھی جبکہ اب وہ دنیا کے سب سے بڑے کھلے ہوئے قبرستان میں تبدیل ہو گیا ہے۔

غزہ کے الشفاءاسپتال پر پھر اسرائیل کے حملے شروع
یہ نہ صرف یہ کہ سیکڑوں ہزاروں فلسطینیوں بلکہ انسانی قوانین کے اہم اصولوں کا بھی قبرستان بن گیا ہے۔ انہوں نے اپنے الزام کو دہرایا کہ اسرائیل غزہ امدادی ٹرکوں کے داخلے پر پابندی عائد کر کے ’’قحط ‘‘ کو جنگ میں ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے یونین کی انسانی کانفرنس سے کہا کہ اسرائیل قحط کو بڑھاوا دے رہاہے جس کے جواب میں اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کیٹز نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل پر حملہ کرنا بند کریں اور حماس کے جرائم کے خلاف اس کے ذاتی دفاع کے حق کو تسلیم کریں۔

خیال رہے کہ اب تک غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے سبب ۳۱؍ ہزار سے زائد افراد کی  موت جبکہ ۷۰؍ ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی بمباریوں کے سبب غزہ کا ۶۰؍ فیصد ڈھانچہ ملبے میں تبدیل ہو گیا ہے۔
یورپی یونین کے ۲۷؍ممالک نے مشترکہ طورپریہ بیان نہیں دیا ہے۔تاہم، ان ممالک میں متعدد ایسے ہیں جو اسرائیلی حامی ہیں لیکن فلسطینی حامی ممالک کی تعداد زیادہ ہے۔

یورپی یونین کے وزراء اسرائیل کے ساتھ تعاون کے معاہدے کو معطل کرنے کیلئے آئرلینڈ اور اسپین کی تجویز پر تبادلہ خیال کرنے والے تھے لیکن اس اقدام کو تمام۲۷؍ممالک کی حمایت حاصل ہونے کا امکان نہیںتھا۔یورپی یونین کے بلاک کا کہناہے کہ وہ ۷؍ اکتوبر کو حماس کے اسرائیل کے خلاف حملے اورمغربی کنارہ پر اسرائیلیوں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملے کی مذمت کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *