April 17, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/giikah.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

۷؍ اکتوبر کو غزہ پر حملے کرنے والے اسرائیل کو اب تک ۳۵؍ ہزار ٹن ہتھیار اور گولہ بارود بھیجا جاچکا ہے۔ اسرائیل ہیوم اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ سمیت مختلف ممالک سے۳۰۰؍ سے زیادہ طیاروں اور کم وبیش ۵۰؍ بحری جہازوں کے ذریعے یہ ہتھیار اسرائیل بھیجے گئے ہیں۔

Israeli National Security Minister Ben Gower. Photo: INN

اسرائیل کی قومی سلامتی کے وزیر بین گویر۔ تصویر : آئی این این

۷؍ اکتوبر کو غزہ پر حملے کرنے والے اسرائیل کو اب تک ۳۵؍ ہزار ٹن ہتھیار اور گولہ بارود بھیجا جاچکا ہے۔ اسرائیل ہیوم اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ سمیت مختلف ممالک سے۳۰۰؍ سے زیادہ طیاروں اور کم وبیش ۵۰؍ بحری جہازوں کے ذریعے یہ ہتھیار اسرائیل بھیجے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل کو ہتھیاروں کا سب سے بڑا سپلائر امریکہ ہے، جب کہ اسلحہ کی کھیپ کا ایک چھوٹا سا حصہ کچھ دوسرے ممالک سے آیا ہے۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ اسلحہ کی ترسیل اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ پٹی پرمذموم حملے جاری رکھنےوالے اسرائیل کو امریکہ کی کھلی حمایت ہے۔ خبرمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے اعلیٰ سیکوریٹی حکام غزہ پر واشنگٹن اور تل ابیب حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل میں سست روی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ واضح رہےکہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد ۳۲؍ ہزار تک پہنچ گئی ہے جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔ 
۵؍ ماہ میں اسرائیل کے انتہا پسندوزیرنے ایک لاکھ آباد کاروں کو مسلح کیا
قابض اسرائیلی ریاست میں داخلی سلامتی کے انتہا پسند وزیر ایتمار بین گویر نے اعلان کیا ہے کہ ان کی وزارت غزہ پر جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ایک لاکھ آباد کاروں کو مسلح کرچکی ہے۔ بین گویر نے وضاحت کی کہ جنگ کے بعد سے وزارت برائے قومی سلامتی کو جمع کرائی گئی تقریباً ۳؍لاکھ درخواستوں میں سے ایک لاکھ اسرائیلیوں کو ہتھیار رکھنے کا لائسنس دیا گیا تھا۔ گزشتہ فروری میں عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے خبر شائع کی تھی کہ انتہا پسند وزیر بین گویر کے پیروکاروں نے متعدد میڈیا کارکنوں کو بھی ہتھیار رکھنے کے لائسنس دیے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *