May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/giikah.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
ویتنام کے سب سے بڑے فراڈ کیس میں ارب پتی خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

ایشیائی ملک ویٹنام کی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈ کیس میں ایک ارب پتی خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی۔ویتنامی شہر ہو چی من کی ایک عدالت نے 67 سالہ پراپرٹی ڈویلپر تھرونگ مے لین کو 11 سال کے دوران 44 ارب ڈالرز لوٹنے اور سرکاری حکام کو رشوت دینے کے جرائم میں سزائے موت سنائی۔تھرونگ مے لین نے ویتنام کے چند بڑے بینکوں میں سے ایک سائیگون کمرشل بینک سے قرضوں کے ذریعے 44 ارب ڈالرز حاصل کیے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس کیس کو دنیا بھر کے چند بڑے بینک فراڈز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے اور عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ تھرونگ مے لین کو 27 ارب ڈالرز واپس کرنا ہوں گے۔مگر پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اس رقم کو دوبارہ حاصل کرنا شاید ممکن نہیں ہوگا، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ تھرونگ مے لین سے اربوں ڈالرز واپس حاصل کرنے کے لیے سزائے موت کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔اس مقدمے کے حوالے سے حکام کی جانب سے زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2700 افراد کو گواہی کے لیے طلب کیا گیا جبکہ اس مقدمے میں 10 ریاستی پراسکیوٹرز سمیت 200 وکیل شامل تھے۔خاتون کے خلاف شواہد کو 104 ڈبوں میں اکٹھا کیا گیا تھا جن کا وزن 6 ٹن تھا جبکہ تھرونگ مے لین کے ساتھ ان کے شوہر اور بھانجی سمیت مزید 85 افراد پر بھی مقدمہ چلایا گیا جن کی جانب سے الزامات کی تردید کی گئی۔یہ ویتنام کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کی کرپشن کے خلاف مہم کا سب سے ڈرامائی مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ویتنامی کمیونسٹ پارٹی کا ماننا ہے کہ کرپشن کی روک تھام نہ ہونے سے عوام میں اشتعال بڑھ رہا ہے جو اقتدار پر پارٹی کی اجارہ داری کے لیے خطرہ ہے۔اسی مقصد کے لیے 2016 میں اینٹی کرپشن مہم شروع کی گئی جس کے دوران 2 صدور اور 2 نائب وزرائے اعظم مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے جبکہ سیکڑوں عہدیداران کو برطرف یا جیل بھیجا گیا۔اب ویتنام کی امیر ترین خواتین میں سے ایک تھرونگ مے لین کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔خاتون کی جانب سے مقدمے میں عائد کیے گئے تمام الزامات کی تردید کی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق2011 میں تھرونگ مے لین نے 3 چھوٹے بینکوں کو اکٹھا کرکے سائیگون کمرشل بینک کی شکل دی۔ویتنامی قوانین کے تحت کسی فرد کو کسی بینک کے 5 فیصد سے زائد حصص اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں مگر پراسیکیوٹرز کے مطابق تھرونگ مے لین نے متعدد گھوسٹ کمپنیوں اور افراد کو استعمال کرکے بینک کے 90 فیصد سے زائد حصص حاصل کرلیے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تھرونگ مے لین نے اپنی طاقت کا استعمال کرکے اپنے افراد بینک کے عملے میں شامل کیے اور ان کے ذریعے اپنی گھوسٹ کمپنیوں کے نیٹ ورک کے لیے سیکڑوں قرضوں کی منظوری دی۔قرضوں کا حجم بھی دنگ کر دینے والا ہے جو بینک کے مجموعی قرضوں کے 93 فیصد کے برابر ہے۔پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ فروری 2019 کے بعد 3 سال کے عرصے میں تھرونگ مے لین نے اپنے ڈرائیور کے ذریعے 4 ارب ڈالرز سے زائد نقد رقم بینک سے حاصل کرکے اپنے تہہ خانے میں جمع کی۔تھرونگ مے لین کو اکتوبر 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا۔عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف اپیل کے لیے تھرونگ مے لین کے پاس 15 دن ہیں۔ویتنامی میڈیا کے مطابق تھرونگ مے لین نے گزشتہ ہفتے عدالت میں اپنے آخری بیان میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خودکشی کے بارے میں سوچنے لگی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘میں موت کے بارے میں سوچ رہی ہوں، مجھے غصہ ہے کہ بینکنگ سیکٹر کے بارے میں بہت کم معلومات ہونے کے باوجود میں نے اس کا حصہ بننے کی حماقت کیوں کی’۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *